×

اختلافات شدت اختیار کر گئے! جمیعت علمائے اسلام کی لاڑکانہ میں دھرنے کی دھمکی، بلاول بھٹو برہم ہوگئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) مولانا فضل الرحمان کی جماعت اور پیپلز پارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں، سندھ میں جے یو آئی کے پسندیدہ افسران کے تقرر و تبادلے نہ ہونے پر جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے بے نظیر بھٹو کے مزار پر دھرنے کی دھمکی دے دی گئی ہے جس پر بلاول بھٹو شدید برہم ہوگئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پہلے ہی بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر لاڑکانہ جلسے میں شرکت کرنے سے معذرت کر رکھی ہے، اب اس حوالے سے ایک نیا پنڈوراباکس کھلا ہے کہ اپوزیشن کے ملاقاتوں میں بھی من پسند کے افسران کے تقرر و تبادلوں کے مطالبات رکھے جاتے رہے۔

اس حوالے سے معروف صحافی ثمر عباس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مولانا کی لاڑکانہ جلسے میں عدم شرکت کی وجہ سندھ میں مرضی کے افسران کی تعیناتی نہ ہونا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’’مولانا کی لاڑکانہ جلسے میں عدم شرکت کی وجہ سندھ میں مرضی کے افسران کی تعیناتی نہ ہونا ہے۔ جے یو آئی نے مرضی کے افسران کی تقرری و تبادلہ نہ ہونے پر بے نظیر بھٹو کے مزار پر دھرنے کی دھمکی دے دی۔تقرریوں، تبالوں کیلئے دباو اور مزار پر احتجاج کی دھمکی پر بلاول بھٹو شدید برہم ہوگئے‘‘۔
ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’’لاڑکانہ جلسے سے قبل پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے،مولانا فضل الرحمان کے گڑھی خدا بخش کے جلسے میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سامنے آ گئی جے یو آئی نے پیپلز پارٹی پر من پسند افراد کی سندھ حکومت میں تعیناتی کے لئے دباو ڈالا ہے ‘‘۔

Source : HassanNissar

اپنا تبصرہ بھیجیں