×

حاملہ بیوی سےملنے کا کیا حکم ہے

حاملہ بیوی سے ہ م ب س ت ر ی کرنا جائزہے جب تک کہ بیوی ہ م ب س ت ر ی کرنے کی اجازت دے یعنی تکلیف محسوس نہ کرے اور حمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو ۔شرعاً حاملہ بیوی سے ج م ا ع کی ممانعت نہیں ہے ۔

حاملہ بیوی سے ہ م ب س ت ر ی کے لئے طبی طور پر کوئی بھی مناسب اور محفوظ طریقہ اپنایا جاسکتا ہے۔شرعِ متین نے دبر میں وطئی کرنے اور حیض و نفاس کی حالت میں ج م ا ع و ہ م ب س ت ر ی کو حرام ٹھہرایا ہے۔ بچوں کی پیدائش میں وقفے یا چند بچوں کے بعد عورت کی صحت کے پیش نظر مستقل نل بندی کروانا شرعاًجائز ہے۔حاملہ عورت کے ساتھ چونکہ اب ایک اور جان بھی ہے اور حمل کی صورت میں ہ م ب س ت ر ی کرنے سے اگر دونوں جانیں محفوظ رہیں اور دونوں جانوں پر کوئی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو ہ م ب س ت ر ی کرنے کی ممانعت نہیں ہے ۔

لیکن طبعی طور پر اکثر اطباء کرام کا مشورہ یہی ہوتا ہے کہ جس قدر ہوسکے حمل کے دوران ہ م ب س ت ر ی سے اجتناب کیاجائے تا کہ عورت کی صحت اثرانداز نہ ہو کیونکہ بچے کی صحت کا دارومدار عورت کی صحت پر ہے لہٰذا عورت کی صحت کا خاص خیال رکھا جائے اور اس کو ہ م ب س ت ر ی کے لئے مجبور نہ کیا جائے ہ م ب س ت ر ی کو عورت کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے ۔اور اطباء کے مشورے کو ملحوظ رکھا جائے ۔شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں